تبلیغی فاصلاتی نظام

اس بلاگ میں قرآن و اھلیبیت علیھم السلام اور ان سے متعلق دوسرے علوم کے بارے میں مضامین اور مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کیئے جائیں گے۔

تبلیغی فاصلاتی نظام

اس بلاگ میں قرآن و اھلیبیت علیھم السلام اور ان سے متعلق دوسرے علوم کے بارے میں مضامین اور مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کیئے جائیں گے۔

تبلیغی فاصلاتی نظام
قرآن وعلوم قرآن و اهلبیت...
Wednesday, 29 March 2017، 08:14 PM

رجب المرجب کے مہینے کا تعارف

ماہ رجب کی اہمیت اور فضیلت

مختلف تفسیروں میں سورہ توبہ کی آیت نمبر"  ۳۶ " إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فی‏ کِتابِ اللَّهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ مِنْها أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ» کے ذیل میں ایک روایت حضرت رسول خدا    صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے اپنے سفر حج میں ایک خطبہ بیان فرمایا"اے لوگو جان لو کہ زمانے نے اپنی گردش پوری کرلی ہے اور پھر دوبارہ اُسی شکل میں جس طرح زمین و آسمان کو پہلے دن خلق کیا تھا،پلٹ گئی ہے، جان لو کہ سال میں بارہ مہینے ہیں اور اس کے چار مہینے حرام ہیں تین مہینے فاصلے کے بغیر ایک کے بعد ایک آتے ہیں وہ مہینے ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم ہیں  ۔ اور ایک مہینہ رجب کا ہے جو ان سے الگ اور جدا ہے اور وہ شعبان اور جمادی الثانی کے مہینوں کے درمیان میں ہے۔)[4](

حضرت رسول  خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ماہ رجب کی فضیلت کے بارے میں ایک اور جگہ فرماتے ہیں: رجب کا مہینہ خدا کا مہینہ ہے اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے اور رمضان کا مہینہ میری  امت کا مہینہ ہے۔ جو شخص رجب کے مہینے میں ایک روزہ رکھے خدا کی خوشنودی اس کو حاصل ہوگی۔ خدا کے غضب سے دور ہوگا اور جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اُس پر بند کیا جائے گا۔)[5](

آرزووں کی  رات

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرماتے ہیں: رجب کے مہینہ کی پہلی شب جمعہ سے غافل مت رہنا کیونکہ فرشتوں نے اس رات کا نام لیلۃ الرغائب )آرزووں کی رات ( رکھا ہے۔ جب اس رات کا پہلا حصہ گذرتا ہے تو آسمانوں اور زمین  میں کوئی فرشتہ باقی نہیں رہتا مگر یہ کہ وہ سب کعبہ اور اس کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں۔ پھر خداوند متعال ان فرشتوں سے فرماتا ہے "جو چاہو مجھ سے مانگو" وہ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ خدایا ہماری آرزو تجھ سے یہی ہے کہ ماہ رجب کے روزہ داروں کو بخش دے پھر  خداوند تبارک و تعالی فرماتا ہے: میں نے ان کو بخش دیا۔)[6](

ماہ رجب کے اعمال

اس مہینے میں تین دن مسلسل جمعرات، جمعہ ہفتہ کو روزہ رکھے)[7](۔

ائمہ معصومین  علیہم السلام ماہ رجب میں بہت زیادہ استغفار کی نصیحت فرماتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس مہینہ میں استغفار اور گناہوں کی بخش کی بہت اہمیت ہے۔

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   استغفار کے بارے میں فرماتے ہیں: رجب کا مہینہ میری امت کے لیے استغفار کا مہینہ ہے اس مہینے میں بہت زیادہ خدا سے بخشش طلب کرو کیونکہ خداوند متعال بخشنے والا اور مہربان ہے)[8](۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " أکثِروا الإستغفارَ إنَّ اللَّهَ لَم یُعلِّمْکُم الإستغفارَ إلاّ و هو یُریدُ أن یَغفرَ لَکُم)[9](" بہت  زیادہ استغفار کرو کیونکہ خداوند متعال نے تم کو استغفار کرنا اس لیے سکھایا ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے۔

پہلی کا چاند  دیکھنے کی دعا

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں: وَ أَوْزِعْنَا فِیهِ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَ أَلْبِسْنَا فِیهِ جُنَنَ الْعَافِیَةِ، وَ أَتْمِمْ عَلَیْنَا بِاسْتِکْمَالِ طَاعَتِکَ فِیهِ الْمِنَّةَ، إِنَّکَ الْمَنَّانُ الْحَمِیدُ، وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ. ۔)[10](

خدایا ہمیں اس مہینے میں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنا اور ہمیں عافیت کا لباس پہنا اور اپنی نعمتوں کو ہم پر تمام فرما کہ تیری اطاعت کرتے ہوئے کمال تک پہنچ جائیں تو نعمتوں کو عطا کرنے والا اور لائق تعریف ہے اور خدا کا درود ہو محمد اور اس کے پاک وپاکیزہ خاندان پر۔

ماخذکا تعارف

1-          فضائل شهر رجب، حاکم حسکانى نیشابورى، مستحبات و ادعیه‏ى ماه رجب، عربی

2-         فضائل الأشهر الثلاثة، شیخ صدوق، ابو جعفر محمد بن على بن حسین بن بابویه قمى، فضائل ماه رجب و شعبان و رمضان، عربی

3-        همراه با ماه رجب/ اوحدی امین/ ارائه طبقه بندی ماه رجب، فارسی

 

 

 

 

 

 

[1] ۔سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۱۷۔

[2] ۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، بیروت، ج۹۴، ص ۷۸۔

[3] ۔ وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی ، ج۱۰، ص ۵۱۲۔

[4] ۔ ترجمہ المیزان ، ج۹، ص ۳۶۶، الدر المنثور، سیوطی جلال الدین، ج۳، ص ۲۳۴۔

[5] ۔ مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، ص ۱۳۲۔

[6] ۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، بیروت، ج۱۰۴، ص ۱۲۶، وسائل الشیعہ، ج۸، ص ۹۹۔

[7] ۔ الخصال، ابن بابویہ، محمد بن علی، ج۲، ص ۳۸۳۔

[8] ۔ وسا4ل الشیعہ، شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، ج۱۰، ص ۵۱۱۔

[9] ۔ وسائل الشیعہ، ج۷، ص ۱۷۸۔

[10] ۔ الصحیفۃ السجادیہ ، علی بن الحسین، ص ۱۸۶۔

نظرات (۰)

ابھی تک کوئ نظر ثبت نہیں ہوی

ارسال نظر

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی