تبلیغی فاصلاتی نظام

اس بلاگ میں قرآن و اھلیبیت علیھم السلام اور ان سے متعلق دوسرے علوم کے بارے میں مضامین اور مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کیئے جائیں گے۔

تبلیغی فاصلاتی نظام

اس بلاگ میں قرآن و اھلیبیت علیھم السلام اور ان سے متعلق دوسرے علوم کے بارے میں مضامین اور مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کیئے جائیں گے۔

تبلیغی فاصلاتی نظام
قرآن وعلوم قرآن و اهلبیت...
3] 

اہلسنت  کے مصادر میں  آپ کے متعلق رسول  اکرم   کی پیشنگوئی ۔

آپ کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار پیشن گوئیاں فرمائی ہیں  ہم  ذیل  میں چند  ایک کوبیان کرتےہیں:

۱: آپ حضورکی عترت اورحضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ [4]

۲:آپ نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا  اور  حضرت عیسیٰ  ع   ا ن کے پیچھے نماز پڑہیں گے ۔[5]

۳: امام مہدی میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذریعہ سے مہراختتام لگادی جائےگی ۔ [6]

۴: امام مہدی کا اصل نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اس طرح پرکردیں گے جس طرح وہ  ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔ [7]

۵:ظہورکے بعد ان کی فورابیعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ خداکے خلیفہ ہوں گے ۔ [8]

صالحین کی عالمی حکومت:

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِینَهُمُ الَّذِی ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ یَعْبُدُونَنِی لَا یُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا ۚ وَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِکَ فَأُولَٰئِکَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۔ [9]

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا کہ وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی کافر ہوجائے تو درحقیقت وہی لوگ فاسق اور بدکردار ہیں ۔

 

روی ابوعلی الفضل بن الحسن الطبرسی فی کتاب مجمع البیان فی تفسیر قوله تعالی: [وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ]؛ قال المروی عن اهل البیت ع انّها فی المهدی من آل محمد.»[10]

تفسیر مجمع البیان  میں مرحوم طبرسی  اس  آیت کی تفسیر کے ذیل میں  فرماتے  ہیں: اہلبیت علیہم السلام  سے مروی ہے  کہ  یہ آیت   مہدی  آل محمد کی شان میں  نازل ہوئی  ہے۔

صحیفہ سجادیہ میں امام  سجّاد  ع کی دعا

أللَّهُمَّ إنَّکَ أَیَّدْتَ دِینَکَ فِی کُلِّ أَوَان بِإمَام أَقَمْتَهُ عَلَماً لِعِبَادِکَ وَّمَنارَاً فِی بِلاَدِکَ، بَعْدَ أَنْ وَصَلْتَ حَبْلَهُ بِحَبْلِکَ، وَجَعَلْتَهُ الذَّرِیعَةَ إلَى رِضْوَانِکَ، وَافْتَرَضْتَ طَاعَتَهُ، وَحَذَّرْتَ مَعْصِیَتَهُ، وَأَمَرْتَ بِامْتِثَالِ أوَاِمِرِه وَالانْتِهَآءِ عِنْدَ نَهْیِهِ، وَأَلاَّ یَتَقَدَّمَهُ مُتَقَدِّمٌ، وَلاَ یَتَأَخَّرَ عَنْهُ مُتَأَخِّرٌ،فَهُوَ عِصْمَةُ اللاَّئِذِینَ ، وَکَهْفُ الْمُؤْمِنِینَ، وَعُرْوَةُ الْمُتَمَسِّکِینَ، وَبَهَآءُ الْعَالَمِینَ. [11]

بارالہا! تو نے ہر زمانہ میں ایک ایسے امام کے ذریعہ اپنے دین کی تائید فرمائی ہے جسے تو نے اپنے بندوں کے لیے نشان راہ قرار دیا اورشہروں میں منار ہدایت بنا کر قائم کیا جبکہ تو نے اپنے پیمان اطاعت کو اس کے پیمان اطاعت سے وابستہ کر دیا جسے اپنی رضا وخوشنودی کا ذریعہ قرار دیا جس کی اطاعت فرض کر دی جس کی نافرمانی سے ڈرایا جس کے احکام کی بجا آوری اورجس کے منع کر نے پر باز رہنے کا حکم دیا ۔ اور یہ کہ کوئی آگے بڑہنے والا اس سے آگے نہ بڑہے  اورکوئی پیچھے رہ جانے والا اس سے پیچھے نہ رہے۔ وہ پناہ طلب کرنے والوں کے لیے سروسامان حفاظت ،اہل ایمان کے لیے جائے پناہ وابستگان دامن کے لیے مضبوط سہارا اورتمام جہان کی رونق وزیبائش ہے ۔

 

 

 

[1] : وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ،ےنابع المودة،تاریخ کامل طبری ،کشف الغمہ ،جلاٴءالعیون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ ۔

[2] : صواعق محرقہ، ص۲۴۱

[3] : کشف الغمہ  ،ص ۱۳۰

[4] : جامع صغیرسیوطی ،ص ۱۶۰ ، طبع مصر۔مسند احمدبن حنبل ،جلد ۱ ،ص ۸۴ ،طبع مصر۔کنوزالحقائق ،ص ۱۲۲۔مستدرک جلد ۴ ،ص ۵۲۰ ۔

[5] : صحیح بخاری  ،باب  ۱۴ ،ص ۳۹۹ ۔صحیح مسلم ،جلد ۲ ،ص ۹۵ ۔صحیح ترمذی  ،ص ۲۷۰ ۔صحیح ابوداؤد ،جلد ۲ ،ص ۲۱۰ ۔صحیح ابن ماجہ ،ص ۳۴ ،ص ۳۰۹ ۔جامع صغیر،ص ۱۳۴ ۔کنوزالحقائق ،ص ۹۰

[6] : ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ،ص ۲۰۹

[7] : ملاحظہ ہو جامع صغیر،ص ۱۰۴ ،مستدرک امام حاکم،ص ۴۲۲ و ۴۱۵

[8] : سنن ابن ماجہ اردو،ص ۲۶۱ ،طبع کراچی ۱۳۷۷ ھ ۔ ؛

[9] :نور ،آیہ ۵۵

[10]  : مجمع البیان فی تفسیرالقرآن، طبرسی فضل بن حسن‏، ناشر انتشارات ناصرخسرو، تهران، چاپ سوم، 1372ه ش، جلد 7، ص 239.

[11] : صحیفہ کاملہ دعا ۴۷

نظرات (۰)

ابھی تک کوئ نظر ثبت نہیں ہوی

ارسال نظر

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی